قاتل کے پیچھے نماز ہوتی ہے یا نہیں؟بعض کتب میں مکروہ لکھا ہے اسکا مطلب کیا ہے۔؟

شیر کریں اور علم دین کو عام کریں

مسئلہ نمبر 20
حضرت مفتی صاحب مسئلہ یہ معلوم کرنا تھا کہ قاتل کے پیچھے  نماز ہوتی ہے یا نہیں؟مدلل ومفصل جواب مطلوب ہے۔
الجواب وباللّٰہ التوفیق:
قتل کرنا بہت بڑا جرم اور گناہ کبیرہ ہے،جس پر قرآن وحدیث میں سخت ترین وعید آئی ہے اس کامرتکب فاسق وفاجر ہے۔اور اسکی اقتدا مکروہ تحریمی ہے۔لیکن بعض کتب میں مکروہ لکھا ہےاور بعض میں بلا کراہت نماز  ہو جاتی ہے لکھا ہے۔اسکی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں واضح رہے کہ اگر مقتول کے ورثاء کی مرضی سے قاتل کو سزا ملی ہے ،یا قاتل نے مقتول کی ورثاء سے صلح کرلی ہے، اورسزا یا صلح کرنے کے بعد قاتل نے توبہ بھی کرلی ہے ، تو ان صورتوں میں قاتل کے پیچھے نماز بلاکراہت درست ہوجائیگی ، اوراگر دئے ہوئے سزا کو مقتول کے اولیاء کافی نہیں سمجھتے ہیں اورنہ ہی اس سزا پر رضا مند ہیں تو ایسی صورت میں اس وقت تک قاتل کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی ، جب تک کہ مقتول کے ورثاء کو معافی یا صلح وغیرہ سے راضی نہ کرلیں گے۔

عبارت ملاحظہ فرمائیں
وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّداً فَجَزَائُ ھٗ جَہَنَّمَ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ الله عَلَیْہِ وَلَعَنَہْ وَأَعَدَّ لَہٗ عَذَاباً مُہِیْناً۔ (النساء :۹۳)
عن الأحنف بن قیس ، قال: ذہبت لأنصر ہذا الرجل ، فلقینی أبو بکرۃ، فقال أین ترید قلت أنصر ہذا الرجل ، قال: إرجع فإني سمعت رسول الله ﷺ یقول: إذا التقی المسلمان بسیفہما ، فالقاتل والمقتول فی النار ، فقلت: یارسول الله صلی الله علیہ وسلم ! ہذا القاتل فما بال المقتول ؟قال: إنہ کان حریصاً علی قتل صاحبہ ۔ (بخاری الإیمان ، باب المعاصی من أمر الجاہلیہ، النسخۃ الہندیہ۱/۹، رقم:۳۱)
یاأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلیٰ ، اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ ، وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ ، وَالأُنْثیٰ بِالأُنْثیٰ ، فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ أَخِیْہِ شَیْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَدَائٌ إِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ۔(البقرہ : ۱۷۸)
لا تصح توبۃ القاتل حتی یسلم نفسہ للقود قال في تبیین المحارم وأعلم أن توبۃ القاتل لاتکون بالاستغفار ، والندامۃ فقط بل یتوقف علی إرضاء أولیاء المقتول فإن کان القتل عمداً لا بد أن یمکنہم من القصاص منہ ، فإن شاء وا قتلوہ وإن شاء وا عفوا عنہ مجانا ، فإن عفوا عنہ کفتہ التوبۃ ۔ (شامی، کتاب الجنایات ، قبیل القود فیما دون النفس زکریا۱۰/۱۹۵، کراچی ۶/۵۴۹)
ویکرہ إمامۃ عبد وفاسق ( وفی الشامیۃ) أن کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم۔ (شامی کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ زکریا۲/۲۹۸، کراچی۱/۵۶۰)(مستفاد:خیر الفتاویٰ,۳۵۳/۲)(فتاویٰ قاسمیہ،۴۳۵/۶تا۴۳۹)
واللہ اعلم بالصواب
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
احمد نگر ہوجائی آسام
منتظم المسائل الشرعیۃ الحنفیۃ
19/اپریل 2020ء 24/شعبان المعظم 1441ھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے